سالانہ ساڑھے5ارب روپے کی غیرقانونی ٹیلیفون کالز
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وفاقی سیکریٹری سعید احمد کہ مطابق گرے ٹریفکنگ کی مد میں ساڑھے پانچ ارب روپے کی غیر قانونی کالیں ہو رہی ہیں اور اس دھندے میں لائسنس ہولڈرز بھی ملوث ہیں جبکہ بعض غیر قانونی موبائل ایکسچینج بھی بن چکے ہیں۔
وفاقی سیکریٹری سعید احمد نے قومی اسیمبلی کی قائم پبلک اکائونٹس کمیٹی کو معلوم دی کہ غیر قانونی گیٹ وے ایکس چینج چلانے والے متعدد افراد پکڑے جا چکے ہیں جبکہ اس عمل کو روکنے کیلئے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
کرپشن سے گھرے ہوئے ملک پاکستان میں غیر قانونی ٹیلی فون کالز کے عمل کو روکنے کیلئے اس جرم کے جرمانے کی حد ایک لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ اور قید ایک سال سے بڑھا کر 7 سال تک کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
قومی اسمبلی کی قائم پبلک اکائونٹس کمیٹی کے رکن نور عالم نے انکشار کیا ہے کہ فاٹا میں پی اے بننے کیلئے پولیٹیکل ایجنٹ 30 تا 40 کروڑ روپے رشوت دیتے ہیں جبکہ اربوں روپے کے فنڈز کے استعمال کا کوئی حساب نہیں اور فاٹا میں عوامی ٹیکسوں کی رقوم کے لفافے فاٹا بٹ رہے ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ رواں برس فاٹا سیکریٹریٹ کے حساب کو خصوصی آڈٹ کیا جائے گا۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی کے مطابق وزارتوں کے حساب میں سب سے زیادہ بے قاعدگیاں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں ہوئیں جبکہ کمیٹی نے سابق وزیر اعظم کو طلب کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
کمیٹی نے وزارت پانی وبجلی کو 2 ماہ میں 462 ارب ریکوری کرنے، طور خم کے علاقے سےروز گزرنے والے 256 نیٹو کنٹینرز سے معاوضہ وصول کرنے۔ انفرا اسٹرکچر کی تباہی کا معاملہ امریکی حکام کے سامنے اٹھانے اور نیٹو سامان کی آڑ میں اسمگلنگ کو روکنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پبلک اکائونٹ کمیٹی کے ارکان نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو طلب کرنےکا مطالبہ کرتے ہوئے وزارتوں اور ڈویزنوں کو ہدایت کی کہ وہ ہر صورت میں قواعد کی پیروی کریں۔
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور بے قاعدگیوں کی وجہ سے اہم قومی ادارے تباہی کے کنارے پر کھڑے ہیں اور قومی خزانے کو کرپشن کی مد میں ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
گزشتہ کچھ برسوں میں پاکستانی اداروں کی کرپشن سامنے والے عالمی ادارے نے رواں برس رپورٹ نھ لانے کی معزرت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے ورکرز پر حکومتی دبائو تھا جس وجہ سے وہ کام نہیں کر سکے۔


