Welcome To Our Site ! Enemies Of Pakistan Expose !! Click Here To Go Our -->Facebook Page Click Here To Visit Our Youtube Channel Click Here To Follow Us On Twitter

Thursday, 7 July 2011

آسٹریلیا: پولیس کو نقاب ہٹانے کے اختیار

آسٹریلیا: پولیس کو نقاب ہٹانے کے اختیار

فائل فوٹو
آسٹریلیا کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلامی نقاب کسی بھی خاتون کی مثبت شناخت کو ناممکن بنا دیتا ہے۔
آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں پولیس کو مشتبہ جرائم پیشہ افراد کی شناخت کے لئے برقعہ اور چہرہ ڈھانپنے والی کسی بھی دوسری چیز کو ہٹانے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
چہرہ دکھانے سے انکار کی صورت میں ایک سال کی سزا یا بھاری جرمانہ کیا جائےگا۔
حالیہ اقدام ایک مسلمان خاتون کے ایک مقدمے سے رہائی کے بعد اٹھایا گیا ہے جس کے دوران عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اسلامی نقاب کسی بھی خاتون کی مثبت شناخت کو ناممکن بنا دیتا ہے۔
ریاست میں مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے فیصلے سے مطمئن ہیں تاہم شہری تنظیموں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو وہ اختیارات دیےگئے ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیں ہے۔
آسٹریلیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کی حکومت نے پیر کو دیر رات ایک اجلاس کے دوران ان تبدیلیوں کی منظوری دی۔
ریاست کے سربراہ بیری او فیرل کا کہنا تھا ’مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی شخص موٹر سائیکل ہیلمٹ پہنے ہوئے ہے یا برقعہ، نقاب پہنے ہوئے ہے یا چہرے کا حجاب یا کوئی اور چیز، پولیس کو اجازت ہونی چاہئیے کہ وہ لوگوں سے ان کی مکمل شناخت ظاہر کروائے‘۔
آسٹریلیا میں مسلمان خواتین کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اس معاملے میں حساس رویہ اپنائے اور خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کرے تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں لیکن جب قانون کے نفاذ کی بات آتی ہے تو پولیس کو ضروری اختیارات دیے جانے چاہیئیں جن سے وہ لوگوں کی شناخت واضح کریں۔‘
ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں جو بھی اپنے چہرے سے پردہ ہٹانے سے انکار کرے گااسے ساڑھے پانچ ہزار آسٹریلین ڈالر جرمانہ یا ایک سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔
ریاست کی پولیس نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ’اس سے عوام اور پولیس افسران دونوں کو شفافیت اور اعتماد حاصل ہوگا۔‘
نیو ساؤتھ ویلز میں اسلامک کونسل نے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کی توقع کر رہے تھے جبکہ مسلمان خواتین کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اس معاملے میں حساس رویہ اپنائے تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔
ریاستی قانون میں یہ تبدیلی اس مقدمے کے بعد کی گئی ہے جس میں گذشتہ برس کارنیتا میتھیوز نامی ایک خاتون کو چھ ماہ کی سزا دی گئی۔ کارنیتا نے مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ایک عام سانس کے ٹیسٹ کے دوران زبردستی اس کا برقعہ اتارنے کی کوشش کی تھی۔
تاہم ایک اپیل کے بعد وہ یہ مقدمہ جیت گئیں۔ جج نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ یہ ثابت نہیں کرسکا کہ خاتون نے جھوٹی شکایت درج کروائی ہے کیونکہ پولیس اہلکار اس خاتون کا چہرہ نہیں دیکھ سکے تھے۔
ریاست کی پولیس کو اس سے پہلے یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ سنجیدہ نوعیت کے معاملات میں شناخت کی غرض سے چہرے کا نقاب ہٹانے کی درخواست کر سکتی تھی لیکن اب معمول کی کاروائی کے دوران بھی وہ ایسا کر سکتی ہے۔
آسٹریلیا کی مغربی ریاست کی حکومت بھی اب اس طرز کی قانون سازی کے بارے میں غور کر رہے ہے۔

    Twitter Delicious Facebook Digg Stumbleupon Favorites More