آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے اور ایٹمی طاقت کے حامل ملک پاکستان کی 18 کروڑ سےزائد آبادی میں سے 11 کروڑ افراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ملکی قرضے تیزی سے بڑھ کر 12 کھرب تک پہنچ چکے ہیں۔دی نیوز ٹرائب کو مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی رپورٹس کے مطابق جنوبی ایشیا کے اہم ترین ملک پاکستان کو اس وقت عالمی سطح پر دہشتگردی اور بیروزگاری کی وجہ سے غریب اور پسماندہ ملک تصور کیا جاتا ہے جبکہ سوئز بینک کی حال ہی میں دی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام غریب ہیں پاکستان نہیں۔
سوئز بینک کے ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت 28 ٹریلین پاکستانی روپے ان کے بینک میں جمع ہیں ، سوئز بینکوں میں جمع یہ رقم اگر پاکستان لائی جائے تو آئندہ 30 سالوں تک ملک کا ٹیکس فری بجٹ بنایا جا سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سوئز بینکوں میں جمع پیسے سے پاکستان میں 60 ملین نئی نوکریاں نکل سکتی ہیں جبکہ ملک کے ہر گائوں سے اسلام آباد تک چار لین کی پکی سڑک بنائی جا سکتی ہے، 28 ٹریلین کی رقم سے ملک کے سارے قرضے اتارے جا سکتے ہیں اور ہر پاکستانی کو اگلے 60 سال تک ہر مہینے 20 ہزار روپے کی امداد دی جا سکتی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق پاکستانی حکومت پہ اندرونی و بیرونی قرضے 12 کھرب تک پہنچ چکے ہیں جو کہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ ہے، ایک اندازے کے مطابق پاکستان کا ہر بچہ 61 ہزار روپے سے زائد کا قرضی ہے جبکہ حکومتی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 6 ماہ قبل پاکستان پہ 11 کھرب 5 ارب 47 کروڑ روپے قرضہ تھا جو بڑھ کر 12 کھرب تک پہنچ چکا ہے ، پاکستان میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور دہشتگردی میں اضافے کے باعث ملک کو معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ حکومت کی ناقص کارکردگی بھی معاشی بحران کا سبب بنی ہوئی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان سے متعلق دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں، بعض ممالک پاکستان کو غریب ملک تصور کرتے ہیں جبکہ کچھ ممالک پاکستان کو ترقی پذیر ملک سمجھتے ہیں ، کچھ رپورٹس کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ کچھ جگہ یہ تناسب 60 فیصد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غریب لوگوں کے حوالے سے تعداد مختلف اس لئے پائے جاتے ہیں کہ عالمی سطح پر غربت کی مختلف تعریفیں ہیں ، ورلڈ ہیلتھ آرگئنائیزیشن کے مطابق وہ شخص جو دن میں 10 ہزار کیلوریز کی غذا حاصل نہیں کر سکتا وہ غریب ہے جبکہ ورلڈ بینک کے مطابق جو شخص یومیہ 2 ڈالر نہیں کما سکتا وہ غریب ہے۔
ماہرین کے مطابق غربت سے سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں اور رپورٹس کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریبا 6 ملین بچے 5 سال سے چھوٹی عمر میں مر جاتے ہیں جبکہ 7 سے 18 برس کی عمر کے 134 ملین بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتے۔
دنیا بھر میں غربت کی وجہ سے ایک بلین سے زیادہ بچے غربت کی وجہ سے تکالیف سے گز رہے ہیں اور ان کو زندگی کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں، پاکستانی حکومت نے 1990 میں عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر ملک میں بنیادی ضرورتوں کا ترقیاتی پروگرام شروع کیا تھا جس کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں ہر کمیونٹی کو زندگی کی ضروریات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
پاکستانی حکومت اور عالمی ادارہ صحت کا یہ پروگرام شروعاتی برسوں میں کامیاب رہا لیکن بعد میں 1999 میں اس منصوبے کو پانچ سالہ منصوبے میں شامل کر لیا گیا جس کے تحت 2010 تک ملک سے 60 فیصد غربت کو ختم کردینا تھا لیکن حکومتوں کے تبدیل ہونے سے عوام غربت سے آزاد نہ ہو سکی۔


