.::اٹھو، جاگو، پاکستان::.
یہ بات بہت پرانی ہے کہ جب انسان بڑھاپے کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اسکی نیند کم ہوجاتی ہے۔ کچھ ماضی کی غلطیاں اسے سونے نہیں دیتی ہیں اور کچھ مستقبل میں ہونے کا خوف اسے ہراساں رکھتا ہے۔ اس بیچ کے عرصہ میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ اتنا یاد نہیں رہتا ہے۔ اس عرصہ میں بڑے ہوتے ہوئے بچے اس سے دور ہوجاتے ہیں اور وہ ان ہی بچوں میں شبیہہ ڈھونڈتا رہ جاتا ہے۔
یہی حال کچھ اپنے پاکستان کا ہے۔ 63 سال کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا ہے۔ کئی حکومتیں آئیں اور کتنی چلی گئیں۔ کتنے لوگوں کی جانیں گئیں۔ کتنے ہی لوگوں نے مرمر کے اس پودے کو سینچا، پانی ڈالا اور ہرا بھرا رکھنے کی کوششیں کیں اور کتنے ہی لوگوں نے اسکے ہرے بھرے پتوں کو پیڑوں سے توڑ کر زمین پر پھینک دیا، کتنی ہی کلیوں کو روندا گیا اور تناور درخت بنتے بنتے اس پودے کی جڑیں سوکھنے لگیں۔ وجہ ہماری ہی غلطی ہے جس کا خمیازہ ہماری آنیوالی نسلیں بھگتیں گی۔ اس پودے کے پتے جب اپنے درخت سے ٹوٹ کر بکھرنے لگے تو اڑ اڑ کر دوسرے ملکوں میں جاکر بس گئے کہ کم از کم ہرے بھرے تو رہیں گے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔
آج کل ٹی وی پر ہر طرف اٹھو، جاگو، پاکستان'' اور نہ جانے کتنے ایسے ہی پروگرام دکھائے جا رہے ہیں۔ شائستہ واحدی کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ لوگ صبح صبح اس پروگرام کو دیکھ کر خوش ہوں۔ مختلف لوگوں کی محاذ آرائی، خودنمائی، اچھے میک اپ اور اچھے کپڑوں کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔ خواتین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اینکر کے نت نئے ڈیزائن اور کپڑے دیکھ کر خوش ہوں۔ مختلف شوز میں ''لان میلہ'' کے پرنٹ دیکھنا دل کو خوش کر جاتا ہے مگر ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا کہ اس پروگرام میں ''پاکستان کیسے جاگ گیا''… کیا صرف ہنسی مذاق، باتیں، تبصرے پاکستان کو جگا دینگے۔ ہم کہاں سے اٹھ کر پاکستان کی قسمت بدل دینگے، کیونکہ پاکستان کی قسمت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ تو سو رہے ہیں۔ اچھا طرزعمل، اچھی تعلیم، اچھی سوچ، اچھے لوگ اور اچھی حکومت ہی پاکستان کی قسمت بدل سکتی ہے مگر لوگ ہی بیچارے کیا کریں جن کے پاس مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ جن کے پاس روٹی، کپڑا اور مکان جیسے وسائل کی کمی ہے۔ جن کے پاس اچھی عدالتیں نہیں، جن کے پاس قانون کے رکھوالے نہیں، جن کے پاس تعلیم نہیں، بلکہ تعلیم کے نام پر مذاق ہورہا ہے۔ جن کے چولہے بجھے رہتے ہیں۔ جن کے گھروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ جہاں پانی کی کمی رہتی ہے۔ ان ساری چیزوں کی کمی کے بعد بھی پاکستان کو جگائے رکھنا بہت ہمت کی بات ہے۔
ہم سب کو پتہ ہے کہ ساری چیزیں ناپید ہونے کے باوجود ہم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کیونکہ ابھی آگے نہ جانے کتنی بڑی زندگی پڑی ہے جس کو صرف جھیلنا ہے اور 63 سال کے پاکستان کو ہلا ہلا کر جگانا ہے۔ اسکی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کو سینچنا ہے اور کچھ کرنے کا وقت ہے۔
ابھی تھوڑے دن پہلے جاپان کے شہر سینڈائی میں اندوہناک زلزلہ اور پھر سونامی نے تو پورے شہر کو نیست و نابود کردیا۔ ایک قیامت بپا ہوئی اور ابھی تک اندازے کے مطابق تقریباً 18 ہزار لوگ لقمۂ اجل بن گئے ہیں۔ ابھی تک نہ جانے کتنے لوگ غائب ہیں جن کو سمندر کی لہریں کھا گئیں۔ ایسی خبریں دیکھ کر تو دل تقریباً دھڑکنا بھول جاتا ہے مگر بعد میں مختلف کلپس میں لوگوں کا حوصلہ، انکی خاموش ہمت اور متحد ہو کر ایک جگہ کھڑے ہو کر انکی کارکردگی دیکھ کر دل عش عش کر اٹھا۔ تقریباً پندرہ ممالک کے بھیجے ہوئے امدادی کارکن اور امداد انکو حوصلہ دینے کیلئے موجود ہیں۔ ان حالات میں لوگ نہ کسی کو لوٹ رہے ہیں نہ جیبیں کاٹ رہے ہیں نہ سامان لیکر بھاگ رہے ہیں نہ ہی بے حوصلگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہ قدرتی آفات ہر جگہ ہر ملک ہر شہر میں بپا ہوسکتی ہیں، ان پر تو کسی کا بس نہیں کیونکہ اللہ کے سامنے ہم سب مجبور ہیں۔ اسکی قدرت کب حساب دہ ہوجائے، کسی کو نہیں پتہ، سوائے ''توبہ'' کے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ مگر پاکستان میں سونامی جیسی چھوٹی چھوٹی آفات آرہی ہیں جو سب کو کھا رہی ہیں۔ کسی بھی وقت دھماکہ ہوجاتا ہے۔ چالیس سے پچاس لوگ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ میں کتنے ہی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں اور اپنے پیچھے پورے خاندان کو مرنے کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔ کتنے ہی غربت کے ہاتھوں خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، کتنے ہی نوجوان جیلوں میں پولیس کے ہاتھوں مر جاتے ہیں مگر ان سب آفات کو ختم کرنے کیلئے باہر سے کوئی امداد نہیں آئیگی۔ ہم اپنے گھر کو ختم کرنے کیلئے خود ہی مجرم ہیں۔ تو پھر باہر سے کسی مدد کا انتظار کیوں؟
پاکستان میں زلزلہ آیا، طوفان آیا، سیلاب آیا، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے اصولوں پر سب کام کئے مگر ان میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے مدد کے نام پر خوب نوچا کھسوٹا، غریبوں کو تو شاید چار آنے کا بھی فائدہ نہیں ہوا مگر نہ جانے کتنے لوگوں کی تجوریاں بھر گئیں۔ جن کے گھر بنے تھے بہہ گئے مگر دوسری طرف لوگوں کے گھر اور اونچے ہوگئے اور بیچارے جو ان چیزوں کا شکار ہوئے وہ ابھی تک کسمپرسی کی زندگی گزار ر ہے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو کیسے جگایا جائے؟ جہاں کے وزیر پارلیمنٹ میں بیٹھے بیٹھے سو جاتے ہیں۔ جن کو کسی آفات کا ڈر نہیں، جن کو کسی مسئلہ سے دلچسپی نہیں، انہیں ایسی ہی نیند آجاتی ہے۔ ''اٹھو، جاگو پاکستان'' جیسے کسی پروگرام میں یہ کلپس دکھائی گئیں اور سوال تھا کہ کون گہری نیند سو رہا ہے؟ یہ دیکھ کر شرم تو آئی مگر افسوس زیادہ ہوا کہ جب پورا پاکستان بھوک، غربت، بیروزگاری، لاچاری، بے کسی سے جاگ رہا ہے تو یہ کیوں سو رہے ہیں؟ اسکو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ''اٹھو، جاگو پاکستان'' جیسے پروگرام بار بار دکھائے
جائیں کہ شاید یہ کبھی جاگ جائیں۔
Join Hands Against Enemies Of Pakistan



